30 مئی 2015 - 18:02
پاکستانی کبوتر ہندوستان میں گرفتار، انٹیلی جنس ایجینسیاں ہائی الرٹ

پولیس کا خیال ہے کہ یہ کبوتر ایک ’جاسوس طیارے‘ کے طور پر کام کر سکتا ہے، کبوتر کی دیکھ بھال کی ذمہ داری مقامی پولیس چوکی کے انچارج سرریندر کمار کے سپرد کی گئی ہے تاکہ اس کی صحت بھی ٹھیک رہے اور جان کی حفاظت بھی ہو سکے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق پٹھان کوٹ میں ہند و پاک کی سرحد پر ایک کبوتر کو جاسوسی کے شبہہ میں پکڑنے کا انکشاف ہوا ہے جس کے بعد اسے پولیس کی تحویل میں دیا گیا۔ اس دوران مذکورہ کبوتر کو ویٹرنری ڈاکٹر کے پاس لے جایا گیا جہاں اس کا ایکسرے اور طبی معائنہ کرایا گیا۔ اس واقعہ کے بعد انٹیلی جنس ایجنسیوں کو بھی الرٹ کر دیا گیا ہے، پاک انڈیا سرحد سے 4 کلو میٹر فاصلے پر پٹھان کوٹ کے ایک گاؤں منوال میں ایک کبوتر نے مٹی اور گارے سے بنے ایک گھر میں لینڈ کیا، جس کے پاؤں پر ایک تار نما آلہ بندھا ہوا تھا۔ رپورٹ کے مطابق کبوتر کے پیر سے بندھے آلے پر انگریزی میں شکرگڑھ اور ناروال کے الفاط کے ساتھ ساتھ اردو زبان میں بھی کوئی پیغام درج ہے، جبکہ دیا گیا ٹیلی فون نمبر پاکستان کے ڈسٹرکٹ نارروال کا معلوم ہوتا ہے۔

مذکورہ گھر کے مالک کا 14 سالہ بیٹا کبوتر کے پاوں سے بندھے اردو پیغام کو دیکھ کر تشویش میں مبتلا ہوگیا اور اس نے فوراً قریبی پولیس اسٹیشن میں اطلاع دی۔ کبوتر پٹھان کوٹ پولیس کی تحویل میں ہے، انٹیلی جنس ایجنسیوں کو بھی الرٹ کر دیا گیا ہے، لیکن ایکسرے سمیت مکمل طبی معائنے کے باوجود ابھی کوئی ایسا ثبوت نہیں ملا ہے جس کی بنیاد پر اسے جاسوس قرار دیا جا سکے۔ پٹھان کوٹ کے ایس ایس پی راکیش کوشل کے مطابق نہ ہی ابھی اسے بے گناہ تصور کیا جا سکتا ہے۔ راکیش کوشل نے بتایا کہ یہ کبوتر بلاشبہ پاکستان سے آیا ہے۔ بدھ کو اسے ایک شخص نے پاکستان کی سرحد سے تین چار کلومیٹر دور واقع منوال گاوں میں پکڑا تھا۔

انہوں نے کہا کہ کبوتر کی دیکھ بھال کی ذمہ داری مقامی پولیس چوکی کے انچارج سرریندر کمار کے سپرد کی گئی ہے تاکہ اس کی صحت بھی ٹھیک رہے اور جان کی حفاظت بھی ہو سکے۔ یہ پوچھے جانے پر کہ کیا یہ ممکن نہیں کہ کبوتر صرف راہ بھٹک کر سرحد پار آگیا ہے اور اس پورے معاملے میں اس سے زیادہ کچھ بھی نہ ہو، راکیش کوشل نے کہا ’ایسا بھی ہو سکتا ہے کیونکہ سرحد کے دونوں طرف بہت سے لوگ کبوتر بازی کرتے ہیں، لیکن میں 18 مہینے سے اس علاقے میں ہوں، میرے سامنے ایسا واقعہ پہلے کبھی نہیں ہوا اگر ایسا ہوتا تو کبوتر آتے جاتے ر ہتے ہیں پہلی مرتبہ ہوا ہے اس لیے ہم زیادہ احتیاط سے کام لے رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ کبوتر کے پروں پر تحصیل شکر گڑھ، ضلع ناروال لکھا ہوا ہے۔ پولیس کا خیال ہے کہ یہ کبوتر ایک ’جاسوس طیارے‘ کے طور پر کام کر سکتا ہے۔

.......

/169